Showing posts with label عروج. Show all posts
Showing posts with label عروج. Show all posts

Tuesday, March 31, 2015

مسلم ممالک میں انصاف کہاں؟.... Where is the justice in Muslim countries ?

مسلم ممالک میں انصاف کہاں؟
اکثر لوگ کہتے ہیں آج مسلم ممالک میں انصاف کہاں؟
اور لوگوں کا کہنا ٹھیک ہی ہے۔ مسلم ملک کیا دنیا میں کہیں بھی مکمل انصاف نہیں ہوتا بلکہ آج کل انصاف دلانے کیلئے جو ادارے بنائے جاتے ہیں وہیں سب سے زیادہ نا انصافی ہوتا ہے‘ وہیں انصاف نیلام ھوتا ہے۔
آج دنیا میں جو طاقتور ہے‘  اثر رسوخ والا ہے‘  مالدار ہے وہ اپنی طاقت‘ اثر رسوخ یا مال سے انصاف کو خرید لیتا ہےاور کمزور‘ غریب و مسکین کے ساتھ انصاف نہیں ہو پاتا۔ غنڈے‘ بدمعاش اور لٹیرے  لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں‘ دوکان مکان جائداد پہ غاصبانہ قبضہ کرکے  جینے کا حق چھین لیتے ہیں‘ عزتیں لوٹتے ہیں اور  بہو بیٹیوں کو اپنی عیاشیوں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں‘ نوجوان اولاد کو قتل کردیتے ہیں  ۔۔۔۔۔ اور شریف انسان انصاف کیلئےدر بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہتا ہے۔۔۔  لیکن انصاف نہیں ملتا۔
آج کے حکمراں اور لیڈر ملک میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرکے جہاں عوام کی دولت سے اپنی تجوریاں (نہیں بلکہ غیر ملکی بنک ) بھررہے ہیں اور اپنی عیاشیوں میں لگا رہے  ہیں  وہیں سرمایہ دار ملک میں مہنگائی بڑھا کر اور مزدوروں کو مناسب اجرت نہ دیکرغریب عوام کا استحصال کر رہے  ہیں اور عوام بے چاری کسی منصف کے انتظار میں تڑپ رہی ہے لیکن آج مسلم ملکوں میں ہی کوئی منصف نہیں‘ کوئی نہیں جو ظلم و زیادتی کا خاتمہ کرکے انصاف کے تقاضے پوری کرے۔
پہلے انبیاء علیہ السلاۃ و السلام  اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رہنمائی میں انصاف کے تقاضے پوری کرتے تھے:

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۔۔۔۔۔ ﴿٢٥﴾ سورة الحديد
" بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں۔"
اور نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی انصاف قائم کرنا ہی تھا جیسا کہ امر ربی ہے:

قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ ۖ 
" فرما دیجئے: میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے" [7:29] سورة الأعراف

اور ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ عملی طور پر انصاف کے ساتھ امت کو انصاف پہ قائم رہنے اور انصاف قائم کرنے کے سارے طریقے سکھا  گئے  جو  ہمارے درمیان قرآن و سنت کی شکل میں محفوظ ہے۔ جسے آپ ﷺ کے دشمنوں نے بھی نا صرف اقرار کیا  بلکہ اپنے  ملک کے سب سے  بڑی عدالت سپریم کورٹ کے میں نصب کیا۔
Prophet Muhammad Honored By U.S. Supreme Court
as one of the Greatest Lawgivers of the world in 1935
اگرچہ  دشمن نے تعصب میںTHE GREATEST  بجائےONE OF THE GREATEST  لکھا۔
لیکن امریکیوں نے اپنے ملک میں عدل و انصاف قائم کیا اور عروج پہ پہنچے‘ دنیا کے سپر پاور بن گئے اگرچہ تعصب میں وہ ہمیشہ اسلام کی مخالفت ہی کرتے رہے لیکن آپ ﷺ کی اور خلفائے راشدین کی بے شمار قوانین جس کو انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق اچھا سمجھا اپنے ملک میں رائج کیا۔
جبکہ ہم مسلمانوں نے بغیر سوچے سمجھے انکی ہراچھے برے کفریہ قانون کو اپنایا اور اللہ کی شریعت کو پس پشت ڈال دیا ‘ نتیجتاً مسلم ممالک میں  کفریہ قوانین و نظام رائج  ہونے کی وجہ کر  عدل و انصاف اور امن و امان مفقود ہے ۔
اس کے باوجود آج ایک عام مسلمان سے لے کر حکمراں تک کوئی بھی شرعی قوانین کے نفاز میں سنجیدہ نہیں۔
ملک اور حکمراں  کو چھوڑ دیں اور آئیے اپنے آپ سے سوال کریں:
کیا ہمارا ظاہری و باطنی کردار، اقوال و اعمال‘ لین دین‘ ملازمت و تجارت‘ حقوق اللہ و حقوق العباد اور دیگر تصرفات اللہ کی شریعت کے تابع ہے؟
کیا ہم واقعی انصاف پسند ہیں اور مندرجہ ذیل فرمانِ الٰہی کے مطابق اللہ کیلئے گواہی دینے کو تیار ہیں تاکہ  ہماری اپنی زندگی میں‘ ہمارے خاندان‘ ملک و معاشرے میں عدل و انصاف کا  نظام قائم ہو:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿١٣٥﴾ سورة النساء
" اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے."

آج امتِ مسلمہ کی اکثریت (چاہے غریب ہو یا امیر‘ عوام ہو یا حکمراں) انصاف پر قائم نہیں اور نہ ہی کوئی اپنی نفس پرستی اور دنیا وی مفاد کو چھوڑ کر اللہ کیلئے گواہی دینے کو تیار ہے اور اس گواہی سے بچنے کیلئے یہود و نصاریٰ کا رائج کردہ جہالت کے فیصلے پر سبرضا مند ہیں اگرچہ سب ہی جانتے اور مانتے ہیں کہ  اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿٥٠﴾ سورة المائدة
" کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟"

بے شک اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ  کے فیصلے اور احکام  کو ٹھکرا کر جاہلیت کے فیصلوں کو اپنانا شریعت سے واضح ترین سرکشی ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے مقابلے بازی (جنگ) ہے جس کا نتیجہ ہے کہ
آج مسلم ممالک میں عدل و انصاف نہیں رہا اور نہ ہی امن و امان ہے۔
اور
بہترین امت پسماندگی وزبوحالی کا شکار ہے اور دشمنان اسلام اس پر مسلط ہے۔
عدل و انصاف اور امن و امان قائم  کیے بغیر امت کو پسماندگی وزبوحالی سے نکال کر عروج پہ پہنچانا ممکن نہیں اور نہ ہی دشمنوں کا غلبہ ختم کیا جاسکتا ہے۔ عدل و انصاف کے تقاضے صرف اور صرف اللہ کی شریعت سے ہی ممکن ہے‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے مقابلے بازی (جنگ) سے نہیں۔
اسلام  ہی نے انسانیت کو عدل و انصاف کے زیور سے آراستہ کیا لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کی اکثریت عدل و انصاف کی معنی و مفہوم سے ہی نا واقف ہے اور مروجہعدلیہ یا کورٹ و کچہری میں کفریہ نظام کے تحت جو فیصلے کیے جاتے ہیں اسی کو عدل و انصاف سمجھ  بیٹھی ہے جبکہ اسلام انسان کی زندگی کے ہرعمل سے عدل و انصاف کا تقاضہ کرتا ہے۔
عدل   کا مفہوم ہے’’  کسی چیز کو  اسکے صحیح مقام پہ رکھنا‘‘ ،اور اسی لئے ’’ کسی حق دار کو اس کا پورا حق دینے‘‘  کا نام ہے عدل۔
اورلغت میںانصاف ’’ کسی چیز کو برابر دوٹکڑے کرنے‘‘ کو کہتے ہیں، یعنیانصاف ’’فیصلہ کرنا‘‘ ،’’حق دینا‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
اس طرح عدل و انصاف کا مفہوم ہوا’’انفرادی و اجتماعی معاملات میں افراط و تفریطکے بغیراعتدال کے ساتھ حقوق کی  صحیح ادائیگی‘‘۔
یعنی عدل و انصاف نام ہے حقوق کی ادائیگی کا‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادئیگی کا نام‘ خالق کے حقوق اللہ کو اور مخلوق کے حقوق مخلوق کو دینے کا نام‘
بندے پر سب سے پہلا حق اسکے خالق و مالک اللہ رب العزت کا ہے ‘ پھرمحسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے۔ جس طرح حقوق اللہ کی ادائیگی  کیلئے ہم سب پر پیارے نبی ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی ہے اسی طرح دیگر حقوق کی ادائیگی کیلئےبھی ہم سب آپ ﷺ کی تعلیمات کے محتاج ہیں۔
لہذا  آپ ﷺ کی تعلیمات کو عام کئے بغیر ( یعنی نفاذِ شریعت کے بغیر )  اور اس پر پوری طرح عمل کئے بغیر نا ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا ہوگی اور نا ہی مسلم ملک و معاشرے میں عدل و انصاف اور امن و امان قائم ہو گا۔
آئے ! ہم انفرادی طور پر عدل و انصاف کے ساتھ اللہ کو گواہ بناتے ہوئےہر طرح کی اور ہر کسی کی حقوق کی صحیح ادائیگی کرنے کی سعی کریں تاکہ  ہمارے گھروں میں‘ مسلم معاشرے‘ ملک و ملت میں عدل و انصاف قائم ہو۔
 کیونکہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر  فرد  ہے  ملت  کے  مقدر  کا  ستارہ
جب ہم بدلیں گے تو ہمارے  بیوی بچے بھی بدلیں گے‘ پھر ہمارا گھر اور معاشرہ بھی تبدیل ہوگا اور ملک و ملت کی تقدیر بھی بدلے گی ‘ عدل و انصاف اور امن و امان قائم ہوگا 
اور کوئی یہ نہ کہے گا کہ
 مسلم ممالک میں انصاف کہاں؟۔۔انشاء اللہ 


Monday, February 16, 2015

یہود کے نقش قدم پہ

اللہ رب العالمین نے اپنی رحمتِ بیکراں سے اس امت کو ہر خیر اورشر سے آگاہ کرنے 
اورعروج وزوال کے نشخے بابرکت کتاب قرآن مجید کی صورت میں ہمیشہ کیلئے عطا کیا۔

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أِنَّ اللّٰہَ یَرفَعُ بِھٰذَا الکِتَابِ أَقوَاماً وَّیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ (صحیح مسلم)

" اللہ اس کتاب (قرآن مجید) کی بدولت قوموں کو بام عروج تک پہنچائے گا اور بہت سوں کو نیچے گرائے گا۔"

 (یعنی اس پر عمل کرنے والے سرفراز ہونگے جبکہ اس سے منہ موڑنے والے نامراد ہونگے)۔
 امتِ مسلمہ کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کے احکامات پر عمل کرنے کی بدولت دو مرتبہ سرفراز  ہوئی یعنی دنیا میں سپر پاور بنی اور اس سے منہ موڑکر دو مرتبہ ہی فساد فی الارض کی مرتکب ہو کر  پستی کی گہرائیوں میں جا گری اور آج تک گرتی جا رہی ہے۔
" مسلمانوں نے دو مرتبہ زمین میں فسادمچایا "۔۔۔۔۔ جس کے بارے میں اللہ نےقرآن میں پہلے ہی بتا دیا تھا ۔
آپ کہیں گے ارے صاحب یہ کیا بہکی بہکی باتیں ہیں ؟
دو مرتبہ فساد فی الارض تو یہودیوں نے مچائی تھیجس کا ذکر قرآن کریم میں ہے:
وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا ﴿٤﴾ سورة الإسراء

" اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو قطعی طور پر بتا دیا تھا کہ تم زمین میں ضرور دو مرتبہ فساد کرو گے اور (اطاعتِ الٰہی سے) بڑی سرکشی برتو گے"

ہم مسلمان  ان آیتوں کو سرسری پڑھتے ہیں اوراسے یہودیوں کے کھاتے میں ڈال کر آگے نکل جاتے ہیں۔ جبکہ قرآن کا ایک ایک حرف امتِ مسلمہ کیلئے ہے۔ کاش ہم مسلمان ان آیتوں پر تدبر و تفکر کرکے یہودیوں کی تاریخ سے سبق لیتےتو  زفساد فی الارض میں ملوث ہونے اور تباہ ، ذلیل و خوار ہونے سے بچ جاتے۔
جی بالکل صحیح!
اللہ نے ہمیں بتا دیا تھا کہ یہودیوں نے دو مرتبہ فساد مچایا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے کہا تھا:
" تم اپنے سے پہلے کے لوگوں (یہود و نصاری) کی پیروی کروگے ۔"
یہ تنبیہ تھی امتِ مسلمہ کیلئے لیکن ہم مسلمانوںنے اس پر غور نہیں کیا اور نہ فساد فی الارض کی روش سے بچنے کے بجائے  ہاتھ در ہاتھ، بالشت در بالشت، یہودیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زمین میں  فساد در فساد برپا کیا۔
آئیے یہودیوں کے  فسادات و سزائیں  اور ان کی پیروی میں امتِ مسلمہ کے فسادات اور سزاؤ کا جائزہ لیتے ہیں ۔
یہودیوں کا پہلا فساد اور  سزا ئیں :
حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت یہودی سپر پاور تھے لیکن ان کے بعد فرقوں میں بٹ کر اور آپس میں لڑ کر اپنی دو الگ سلطنتیں قائم کر لیں۔ ایک سلطنت اسرائیل اور دوسری سلطنت یہودیہ کہلا ئی۔
یہودی تورات کی تعلیمات سے دور ہوتے گئے۔ توحید ِ باری تعالیٰ کی جگہ ہمسایہ قوموں کی مشرکانہ عقائد کو اپنایا۔ امراء و حکمراں نے مشرک عورتوں سے شادی رچائی۔ حکومتی طاقت و ذرائع سے شرک و بدعات کی پرچار عروج کو پہنچی‘ بےشمار فرقے وجود میں آئے‘ خانہ جنگی و خون خرابہ عام ہوا۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہودیوں کے اس پہلے فساد کے سدباب   کیلئے پے در پے نبی بھیجے لیکن یہ قوم جس شرک و بدعات اور اخلاقی انحطاط کی طرف جا رہی تھی اس سے باز نہ آئی ۔ انبیاء علیہ السلام کی بات ماننا تو دور کی بات الٹا انہیں قتل کرتی رہی۔ آخر کار اللہ کا غضب نازل ہوا۔ اللہ نے اشوریوں کی شکل میں اپنے سخت گیر جنگجو بندوں کو ان کی سرکوبی کیلئے بھیجا جو ہزاروں اسرائیلیوں کو تہ تیغ و ملک بدر کیا اور باقی بچنے والوں کو مذہب بدلنے پر مجبور کرکے سلطنت اسرائیل کا نام و نشان ہمیشہ کیلئے مٹا دیا ۔

دوسری طرف سلطنتِ یہودیہ میں جب حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ علیہم الصلوۃ و السلام کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہودیہ کے بنی اسرائیل بُت پرستی اور بد اخلاقیوں و بغاوت سے باز نہ آئے تو اللہ نے بابل کےبادشاہ بخت نصر کے ذریعے انہیں سخت سزا دی۔ بخت نصر ایک سخت حملہ کر کے سلطنتِ یہودیہ کے تمام چھوٹے بڑےشہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح پیوند خاک کیا کہ اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ کھڑی نہ رہی، یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو جلاوطن کرکے تتر بتر کر دیا اور جو یہودی اپنے علاقے میں رہ گئے وہ بھی ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بُری طرح ذلیل اور پامال ہوئے
امت مسلمہ کا پہلا فساد اورسزا ئیں:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی سلطنت سپر پاور بنی لیکن جلد قرآنی تعلیمات  سے دور ہوتے ہوئے بیرونی سازشوں کے تحت اپنے حکمرانوں کے قتل‘ خانہ جنگی‘ فرقہ واریت اور اخلاقی انحطاط کے زد میں آکر تنزلی کا شکار ہونے لگی۔ اگر یہودی ابنیاء علیہم السلوۃ و السلام کے قاتل ٹھہرے تو امت مسلمہ اصحابِ رسول اور امت کے اچھے لوگوں کے قتل میں ملوث ہوئی۔ پھر بھی چیونکہ زیادہ تر لوگ صاحبِ قرآن ‘   موحد اور اعلیٰ اخلاق کے حامل تھے خانہ جنگی و دیگر فسادات کے باوجود امت عروج پہ رہی ۔ اس بام عروج میں امتِ مسلمہ کی بھی ( یہودیوں کی طرح) دو سلطنتیں تھی۔ ایک عرب اور اسکے ملحقہ علاقے میں ’ سلطنت اسلامیہ‘ اور دوسری یورپ میں ’ سلطنت اندلسیہ‘۔
جب پہلی بارامت مسلمہ میں فساد (فرقہ پرستی ‘ خانہ جنگی اور اخلاقی انحطاط ) عروج پر پہنچا تو اللہ نے اپنے ایسے سخت جنگ جُو بندے بھیجے جو ایک طرف تاتار کے روپ میں اسلامی سلطنت کی دارلخلافہ بغداد اور ہر چھوٹے بڑے شہر کے لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا تو دوسری طرف نصرانیوں کے روپ میں سلطنت اندلسیہ کو صفحۂ ہستی سے ہمیشہ کیلئے مٹا دیا۔
(آجکل چیونکہ لوگوںلمبی مضمون نہیں پڑھتے اس لئے یہود اور مسلمانوں کے فسادات و سزا ئیں بہت اختصاراً تحریر کی گئی ہے‘ اصل مقصد مماثلت دکھانااور اس سے سبق لینا ہے۔صاحبِ ذوق  تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں)
یہ تھا امتِ مسلمہ کا پہلا فساد جو بنی اسرائیل کے پہلے فساد سے پوری طرح مماثلت رکھتی ہے، اور اسکی سزا بھی بالکل اسی طرح ملی جیسی یہودیوں کو ملی تھی۔


جس کے بارے میںاللہ سبحانہ و تعالیٰ نے پہلے ہیکا فرمادیا تھا جو قرآن میںکچھ یوں ہے

فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا  
" چنانچہ جب پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو ہم نے (تمہاری سرکوبی کیلئے) اپنے کچھ ایسے سخت جنگجو بندے بھیج دیئے جو تمہاری آبادیوں میں چن چن کر تمہیں مارا اور (اللہ) کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔" (سورة الإسراء  آیت نمر۔5)
 یہود اور امتِ مسلمہ کے فساد اور سزا کی اس مماثلت سے جب ہم یہ کہتے کہ امتِ مسلمہ کو تنبیہ کرنے کیلئے ان آیتوں کو قرآن کا حصہ بنایا گیا تھا ‘ کیا کوئی ہے جو اس کا انکار کردے۔
خیر انکار کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ 

امت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو قرآن کا بٹوارا کرتے ہیں۔

آج اگر  وحدتِ امت کیلئے‘  امت کی اصلاح‘ شرک ا رو بدعات کی روک تھام  کیلئے قرآن کی کوئی آیت پیش کی جائے  تو  جھٹ کہہ اٹھتے ہیں :
یہ آیت تو کفارِ مکہ کیلئے نازل ہوئی تھی ۔۔۔
یہ تو مشرکین کیلئے ۔۔۔
یہ تو منافقوں کیلئے ۔۔۔
یہ تو یہود کیلئے ۔۔۔
یہ تو نصاریٰ کیلئے ۔۔۔
آپ کفار‘ مشرکین ‘ یہود و نصاریٰ کے بارے نازل کردہ آیتوں کو مسلمانوں پہ فٹ کرتے ہیں ‘ آپ تو امت میں تفرقہ چاہتے ہیں۔
یعنی قرآن  مسلمانوں کیلئے نہیں ۔۔۔بلکہ قرآن  تو کفار‘ مشرکین اور یہود و نصاریٰ کیلئے تھا اور ہے۔
 ۔۔۔ آپ امت میں تفرقہ چاہتے ہیں۔
افسوس صد افسوس ! آج قرآن و سنت سے دلائل دینے والے تو فساد و تفرقہ چاہتے ہیں
اور 
قرآن و سنت کو چھوڑنے والے امت کو شرک و بدعت کی راہ پہ لےجانے والے 
وحدتِ امت کے خواہاں ٹہرے۔

خواہانِ  وحدتِ امت  ! آئے قرآن کو حَکم مانئے ! جس طرح حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے قرآن کو حَکم مان کر امت کو فساد سے نکالا تھا اسی طرح اپنے تنازعات طے کیجئے اور امت کو فساد سے نکالئے‘ امت کو قرآن سے جوڑیئے ‘ پھر اللہ کی نصرت آئے گی اور یہ امت ایک بار پھر بامِ عروج پہ پہنچے گی۔
ورنہ وہ دن دور نہیں کہ یہودیوں کے طرح مسلمانوں کو بھی کوئی گیس چیمبر میں ڈال کر ان کی چربی سے ’ مسلم سَوپ ‘ بنائے کیونکہ یہودیوں کے نقش قدم پہ چلنے والی  اس امت کو سزا بھی یہودیوں جیسا ملتا ہے۔
اور اللہ کی سنت تبدیل نہیں ہوتی۔
وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا
(یہود اور امتِ مسلمہ کے دوسر ے فساد اور سزا کی کی داستان اور اسکی مماثلت اگلی قسط میں)